اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے

وزیر آغا

اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے

وزیر آغا

MORE BY وزیر آغا

    اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے

    آواز جرس اب کے برس مجھ کو ہنسا دے

    یا ابر کرم بن کے برس خشک زمیں پر

    یا پیاس کے صحرا میں مجھے جینا سکھا دے

    میں بھی تری خوشبو ہوں مری سمت بھی تو دیکھ

    مہلت تجھے گر سلسلۂ موج صبا دے

    سورج نے مجھے برف کیا ہے تو تجھے کیا

    کیا تجھ کو اگر برف مجھے آگ لگا دے

    ایسا بھی نہیں ہے کہ فقط خاک نشیں ہوں

    آ جائے ہوا آ کے مری خاک اڑا دے

    خوشبو کی طرح در بدری خو ہو مری گر

    ہے شک تو مجھے میری نگاہوں میں گرا دے

    کانٹے کی جراحت سے بھی مر جاتے ہیں کچھ لوگ

    رکھ حوصلہ اتنی بھی نہ اب خود کو سزا دے

    یا رب تری رحمت کا طلب گار ہے یہ بھی

    تھوڑی سی مرے شہر کو بھی آب و ہوا دے

    کیا تیرا بگڑتا ہے اگر چاندنی شب تو

    اک بار مجھے پھر میری آواز سنا دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY