اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو

کلیم عاجز

اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو

کلیم عاجز

MORE BY کلیم عاجز

    اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو

    روز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو

    رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں

    چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو

    دیوانہ گل قیدئ زنجیر ہیں اور تم

    کیا ٹھاٹ سے گلشن کی ہوا کھائے چلو ہو

    مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ

    پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

    ہم کچھ نہیں کہتے ہیں کوئی کچھ نہیں کہتا

    تم کیا ہو تمہیں سب سے کہلوائے چلو ہو

    زلفوں کی تو فطرت ہی ہے لیکن مرے پیارے

    زلفوں سے زیادہ تمہیں بل کھائے چلو ہو

    وہ شوخ ستم گر تو ستم ڈھائے چلے ہے

    تم ہو کہ کلیمؔ اپنی غزل گائے چلو ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY