اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

احمد فراز

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

احمد فراز

MORE BY احمد فراز

    اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

    آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

    ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں

    یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی

    تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں

    آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی

    ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے

    تو نے کس گھڑی ظالم میری ہم نوائی کی

    ترک کر چکے قاصد کوئے نامراداں کو

    کون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی

    طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں ناصح کے

    آپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا برائی کی

    پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاد

    دیکھنا اڑا دے گا پھر خبر رہائی کی

    دکھ ہوا جب اس در پر کل فرازؔ کو دیکھا

    لاکھ عیب تھے اس میں خو نہ تھی گدائی کی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    احمد فراز

    احمد فراز

    نعمان شوق

    اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY