عشق کی جوت جگانے میں بڑی دیر لگی

عباس تابش

عشق کی جوت جگانے میں بڑی دیر لگی

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    عشق کی جوت جگانے میں بڑی دیر لگی

    سائے سے دھوپ بنانے میں بڑی دیر لگی

    میں ہوں اس شہر میں تاخیر سے آیا ہوا شخص

    مجھ کو اک اور زمانے میں بڑی دیر لگی

    یہ جو مجھ پر کسی اپنے کا گماں ہوتا ہے

    مجھ کو ایسا نظر آنے میں بڑی دیر لگی

    اک صدا آئی جھروکے سے کہ تم کیسے ہو

    پھر مجھے لوٹ کے جانے میں بڑی دیر لگی

    بولتا ہوں تو مرے ہونٹ جھلس جاتے ہیں

    اس کو یہ بات بتانے میں بڑی دیر لگی

    میرے عرصے میں کوئی سہل نہ تھا کار سخن

    ایک دو شعر کمانے میں بڑی دیر لگی

    میں سر خاک کوئی پیڑ نہیں تھا تابشؔ

    اس لیے پاؤں جمانے میں بڑی دیر لگی

    مآخذ:

    • کتاب : Beesveen Sadi Ki Behtareen Ishqiya Ghazlen (Pg. 153)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY