عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ

جگر مراد آبادی

عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ

جگر مراد آبادی

MORE BYجگر مراد آبادی

    عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ

    ماہتاب آفتاب ہیں ہم لوگ

    گرچہ اہل شراب ہیں ہم لوگ

    یہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ

    شام سے آ گئے جو پینے پر

    صبح تک آفتاب ہیں ہم لوگ

    ہم کو دعوائے عشق بازی ہے

    مستحق عذاب ہیں ہم لوگ

    ناز کرتی ہے خانہ ویرانی

    ایسے خانہ خراب ہیں ہم لوگ

    ہم نہیں جانتے خزاں کیا ہے

    کشتگان شباب ہیں ہم لوگ

    تو ہمارا جواب ہے تنہا

    اور تیرا جواب ہیں ہم لوگ

    تو ہے دریائے حسن و محبوبی

    شکل موج و حباب ہیں ہم لوگ

    گو سراپا حجاب ہیں پھر بھی

    تیرے رخ کی نقاب ہیں ہم لوگ

    خوب ہم جانتے ہیں اپنی قدر

    تیرے نا کامیاب ہیں ہم لوگ

    ہم سے غفلت نہ ہو تو پھر کیا ہو

    رہرو ملک خواب ہیں ہم لوگ

    جانتا بھی ہے اس کو تو واعظ

    جس کے مست و خراب ہیں ہم لوگ

    ہم پہ نازل ہوا صحیفۂ عشق

    صاحبان کتاب ہیں ہم لوگ

    ہر حقیقت سے جو گزر جائیں

    وہ صداقت مآب ہیں ہم لوگ

    جب ملی آنکھ ہوش کھو بیٹھے

    کتنے حاضر جواب ہیں ہم لوگ

    ہم سے پوچھو جگرؔ کی سر مستی

    محرم آں جناب ہیں ہم لوگ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY