اتنے اچھے ہو کہ بس توبہ بھلی
اتنے اچھے ہو کہ بس توبہ بھلی
تم تو ایسے ہو کہ بس توبہ بھلی
رسم عشق غیر اور میں یہ بھی خوب
ایسی کہتے ہو کہ بس توبہ بھلی
میری مے نوشی پہ ساقی کہہ اٹھا
اتنی پیتے ہو کہ بس توبہ بھلی
وقت آخر اور یہ قول وفا
دم وہ دیتے ہو کہ بس توبہ بھلی
غیر کی بات اپنے اوپر لے گئے
ایسی سمجھے ہو کہ بس توبہ بھلی
میں بھی ایسا ہوں کہ خالق کی پناہ
تم بھی ایسے ہو کہ بس توبہ بھلی
کہتے ہیں مضطرؔ وہ مجھ کو دیکھ کر
یوں تڑپتے ہو کہ بس توبہ بھلی
- کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 234)
- Author : Muztar Khairabadi
- مطبع : Javed Akhtar (2015)
- اشاعت : 2015
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.