جانے کیا ہوگا ہر اک دل کو یہ دھڑکا کیا ہے

جمال پانی پتی

جانے کیا ہوگا ہر اک دل کو یہ دھڑکا کیا ہے

جمال پانی پتی

MORE BY جمال پانی پتی

    جانے کیا ہوگا ہر اک دل کو یہ دھڑکا کیا ہے

    دور تک پھیلا ہوا خوف کا سایہ کیا ہے

    بحر و بر وادی و صحرا میں ہے ہلچل کیسی

    یہ افق تا بہ افق شور سا برپا کیا ہے

    بین کرتی ہوئی چلتی ہے ہوا کیوں سر شام

    دل کا مارا کوئی راتوں کو سسکتا کیا ہے

    کیا ہے یہ سوز دروں جس سے سلگتا ہے بدن

    جو بھڑکتا ہے دل و جاں میں وہ شعلہ کیا ہے

    دم بہ دم اٹھتی ہیں کس یاد کی لہریں دل میں

    درد رہ رہ کے یہ کروٹ سی بدلتا کیا ہے

    کیسی تلخی ہے کہ نس نس میں بسی جاتی ہے

    زہر سا کوئی رگ و پے میں اترتا کیا ہے

    بجھ گئی شمع نظر جب تو وہ چہرہ چمکا

    دل جو ڈوبا ہے تو اب چاند سا نکلا کیا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : siip-volume-35 (Pg. 219)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY