جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میں
جانے تو کیا ڈھونڈ رہا ہے بستی میں ویرانے میں
لیلیٰ تو اے قیس ملے گی دل کے دولت خانے میں
جنم جنم کے ساتوں دکھ ہیں اس کے ماتھے پر تحریر
اپنا آپ مٹانا ہوگا یہ تحریر مٹانے میں
محفل میں اس شخص کے ہوتے کیف کہاں سے آتا ہے
پیمانے سے آنکھوں میں یا آنکھوں سے پیمانے میں
کس کا کس کا حال سنایا تو نے اے افسانہ گو
ہم نے ایک تجھی کو ڈھونڈا اس سارے افسانے میں
اس بستی میں اتنے گھر تھے اتنے چہرے اتنے لوگ
اور کسی کے در پہ نہ پہنچا ایسا ہوش دوانے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.