جب نہ آنے کی قسم آپ نے کھا رکھی تھی

نظیر باقری

جب نہ آنے کی قسم آپ نے کھا رکھی تھی

نظیر باقری

MORE BYنظیر باقری

    جب نہ آنے کی قسم آپ نے کھا رکھی تھی

    میں نے پھر کس کے لیے شمع جلا رکھی تھی

    رکھ دیا ان کو بھی جھولی میں ستم گاروں کی

    میں نے جن ہاتھوں سے بنیاد وفا رکھی تھی

    جانتا کون بھلا کیسے کسی کے حالات

    وقت نے بیچ میں دیوار اٹھا رکھی تھی

    اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر

    میری شہ رگ پہ مری ماں کی دعا رکھی تھی

    کس لیے مجھ کو نہ سولی پہ چڑھایا جاتا

    منصفوں نے یہ مرے سچ کی سزا رکھی تھی

    مآخذ
    • کتاب : Etemaad (Pg. 71)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY