جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے

امیر مینائی

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے

امیر مینائی

MORE BY امیر مینائی

    جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے

    ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے

    ہے جوانی خود جوانی کا سنگار

    سادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے

    کون ویرانے میں دیکھے گا بہار

    پھول جنگل میں کھلے کن کے لیے

    ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا

    میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے

    باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی

    بھیجنی ہے ایک کمسن کے لیے

    سب حسیں ہیں زاہدوں کو ناپسند

    اب کوئی حور آئے گی ان کے لیے

    وصل کا دن اور اتنا مختصر

    دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

    صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیرؔ

    بھیجتے تحفہ موذن کے لیے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    امیر مینائی

    امیر مینائی

    اعجاز حسین ہزراوی

    اعجاز حسین ہزراوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY