جب سے صانع نے بنایا ہے جہاں کا بہروپ
جب سے صانع نے بنایا ہے جہاں کا بہروپ
اپنی نظروں میں ہے سب کون و مکاں کا بہروپ
میں گیا بھیس بدل کر تو لگا یوں کہنے
چل بے لایا ہے مرے آگے کہاں کا بہروپ
چاند تارے ہیں یہ کیسے یہ شب و روز ہے کیا
کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے یہاں کا بہروپ
چشم بینا ہوں تو داڑھی کی دو رنگی سمجھیں
ایک چہرے پہ ہے یہ پیر و جواں کا بہروپ
پہنے جاتے ہیں کئی رنگ کے کپڑے دن میں
کیا کہوں ہائے غضب ہے یہ بتاں کا بہروپ
باغ میں طرۂ سنبل کی پریشانی سے
صاف نکلا ترے شوریدہ سراں کا بہروپ
مصحفیؔ سانگ سے کیا اکھڑے ہے پشم اس کی بھلا
سو طرح سے ہو جسے یاد زباں کا بہروپ
- کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(Vol-4)(pdf) (Pg. 92)
- Author : Ghulam hamdani Mashafi
- مطبع : Qaumi council baraye -farogh urdu (2005)
- اشاعت : 2005
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.