جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نے

آل احمد سرور

جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نے

آل احمد سرور

MORE BYآل احمد سرور

    جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نے

    اپنے سر بھی کبھی الزام لیا ہے تم نے

    مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو

    ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے

    عمر گزری ہے اندھیرے کا ہی ماتم کرتے

    اپنے شعلے سے بھی کچھ کام لیا ہے تم نے

    ہم فقیروں سے ستائش کی تمنا کیسی

    شہریاروں سے جو انعام لیا ہے تم نے

    قرض بھی ان کے معانی کا ادا کرنا ہے

    گرچہ لفظوں سے بڑا کام لیا ہے تم نے

    ان اصولوں کے کبھی زخم بھی کھائے ہوتے

    جن اصولوں کا بہت نام لیا ہے تم نے

    لب پہ آتے ہیں بہت ذوق سفر کے نغمے

    اور ہر گام پہ آرام لیا ہے تم نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY