جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا

شہریار

جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا

شہریار

MORE BY شہریار

    جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا

    ترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگا

    اسی امید پہ کب سے دھڑک رہا ہے دل

    ترے حضور کسی روز یہ طلب ہوگا

    مکاں تو ہوں گے مکینوں سے سب مگر خالی

    یہاں بھی دیکھوں تماشا یہ ایک شب ہوگا

    کوئی نہیں ہے جو بتلائے میرے لوگوں کو

    ہوا کے رخ کے بدلنے سے کیا غضب ہوگا

    نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے ایسا حاکم شہر

    جو حادثہ نہیں پہلے ہوا وہ اب ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY