جیسا تم چاہو گے ویسا نہیں ہونے والا

فصیح اللہ نقیب

جیسا تم چاہو گے ویسا نہیں ہونے والا

فصیح اللہ نقیب

MORE BYفصیح اللہ نقیب

    جیسا تم چاہو گے ویسا نہیں ہونے والا

    ورنہ ہونے کو یہاں کیا نہیں ہونے والا

    مقتدر ہو تو غریبوں سے جو چاہو لے لو

    عزت نفس کا سودا نہیں ہونے والا

    دل یہ کہتا ہے کسی کو بھی نہ لا خاطر میں

    عقل کہتی ہے کہ اچھا نہیں ہونے والا

    امن پرچار تلک ٹھیک سہی لیکن امن

    تم کو لگتا ہے کہ ہوگا نہیں ہونے والا

    زر کے میزان میں ہر شخص کو کیا تولتے ہو

    ہر بشر تو سگ دنیا نہیں ہونے والا

    میرا چہرہ ہے مرے قلب کا عکاس نقیبؔ

    میرا چہرہ ترا چہرہ نہیں ہونے والا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY