جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو

سبط علی صبا

جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو

سبط علی صبا

MORE BYسبط علی صبا

    جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو

    مر گئی فاقہ زدہ معصوم بچی رات کو

    آندھیوں سے کیا بچاتی پھول کو کانٹوں کی باڑ

    صحن میں بکھری ہوئی تھی پتی پتی رات کو

    کتنا بوسیدہ دریدہ پیرہن ہے زیب تن

    وہ جو چرخہ کاٹتی رہتی ہے لڑکی رات کو

    صحن میں اک شور سا ہر آنکھ ہے حیرت زدہ

    چوڑیاں سب توڑ دیں دلہن نے پہلی رات کو

    جب چلی ٹھنڈی ہوا بچہ ٹھٹھر کر رہ گیا

    ماں نے اپنے لال کی تختی جلا دی رات کو

    وقت تو ہر ایک در پر دستکیں دیتا رہا

    ایک ساعت کے لیے جاگی نہ بستی رات کو

    مرغزار شاعری میں گم رہا سبطؔ علی

    سو گئی رہ دیکھتے بیمار بیوی رات کو

    مآخذ:

    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 228)
    • Author : shahzaad ahmad
    • مطبع : Ali Printers, 19-A Abate Road, Lahore (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY