جلوہ گر سوچوں میں ہیں کچھ آگہی کے آفتاب

حنیف ساجد

جلوہ گر سوچوں میں ہیں کچھ آگہی کے آفتاب

حنیف ساجد

MORE BYحنیف ساجد

    جلوہ گر سوچوں میں ہیں کچھ آگہی کے آفتاب

    روشنی سے لکھ رہا ہوں زندگانی کا نصاب

    پتھروں سے کب تلک باندھے گی امید وفا

    زندگی دیکھے گی کب تک جاگتی آنکھوں سے خواب

    کیا خبر وہ کون ہیں روز جزا کے منتظر

    چشم بینا کے لیے ہر روز ہے روز حساب

    خاک زندہ گر کرے حسن ازل کی آرزو

    درمیاں رہتا نہیں پھر کوئی بھی تار حجاب

    جانتے ہیں وہ حصول مایہ کی ہر اک سبیل

    حفظ ہیں سجادگاں کو خانقاہی کے نصاب

    انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل

    پتھروں کو دے رہے ہیں آئنے کھل کر جواب

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 442)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY