جوانی کے ترانے گا رہا ہوں

حفیظ جالندھری

جوانی کے ترانے گا رہا ہوں

حفیظ جالندھری

MORE BYحفیظ جالندھری

    جوانی کے ترانے گا رہا ہوں

    دبی چنگاریاں سلگا رہا ہوں

    مری بزم وفا سے جانے والو

    ٹھہر جاؤ کہ میں بھی آ رہا ہوں

    بتوں کو قول دیتا ہوں وفا کا

    قسم اپنے خدا کی کھا رہا ہوں

    وفا کا لازمی تھا یہ نتیجہ

    سزا اپنے کیے کی پا رہا ہوں

    خدا لگتی کہو بت خانے والو

    تمہارے ساتھ میں کیسا رہا ہوں

    زہے وہ گوشۂ راحت کہ جس میں

    ہجوم رنج لے کر جا رہا ہوں

    چراغ خانۂ درویش ہوں میں

    ادھر جلتا ادھر بجھتا رہا ہوں

    نئے کعبے کی بنیادوں سے پوچھو

    پرانے بت کدے کیوں ڈھا رہا ہوں

    نہیں کانٹے بھی کیا اجڑے چمن میں

    کوئی روکے مجھے میں جا رہا ہوں

    ہوئی جاتی ہے کیوں بیتاب منزل

    مسلسل چل رہا ہوں آ رہا ہوں

    حفیظؔ اپنے پرائے بن رہے ہیں

    کہ میں دل کو زباں پہ لا رہا ہوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    حفیظ جالندھری

    حفیظ جالندھری

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Hafeez Jalandhari (Pg. 422)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY