Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے

اکبر الہ آبادی

جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے

اکبر الہ آبادی

MORE BYاکبر الہ آبادی

    جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے

    گھنگھروؤں کی جانب در کچھ صدا آئی تو ہے

    عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے

    پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے

    آپ کے سر کی قسم میرے سوا کوئی نہیں

    بے تکلف آئیے کمرے میں تنہائی تو ہے

    جب کہا میں نے تڑپتا ہے بہت اب دل مرا

    ہنس کے فرمایا تڑپتا ہوگا سودائی تو ہے

    دیکھیے ہوتی ہے کب راہی سوئے ملک عدم

    خانۂ تن سے ہماری روح گھبرائی تو ہے

    دل دھڑکتا ہے مرا لوں بوسۂ رخ یا نہ لوں

    نیند میں اس نے دلائی منہ سے سرکائی تو ہے

    دیکھیے لب تک نہیں آتی گل عارض کی یاد

    سیر گلشن سے طبیعت ہم نے بہلائی تو ہے

    میں بلا میں کیوں پھنسوں دیوانہ بن کر اس کے ساتھ

    دل کو وحشت ہو تو ہو کمبخت سودائی تو ہے

    خاک میں دل کو ملایا جلوۂ رفتار سے

    کیوں نہ ہو اے نوجواں اک شان رعنائی تو ہے

    یوں مروت سے تمہارے سامنے چپ ہو رہیں

    کل کے جلسوں کی مگر ہم نے خبر پائی تو ہے

    بادۂ گل رنگ کا ساغر عنایت کر مجھے

    ساقیا تاخیر کیا ہے اب گھٹا چھائی تو ہے

    جس کی الفت پر بڑا دعویٰ تھا کل اکبرؔ تمہیں

    آج ہم جا کر اسے دیکھ آئے ہرجائی تو ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-akbar (Pg. 147)
    • Author : Sayed Akbar husain Akbar Allahabadi
    • مطبع : Farid Book Depot Pvt. Ltd
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے