جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں

میر تقی میر

جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں

    اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں

    کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے

    جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں

    مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

    کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے

    دیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں

    گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت دل آنکھوں سے

    یا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں

    کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہش

    اب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں

    جاگہ سے بھی جاتے ہو منہ سے بھی خشن ہو کر

    وے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں

    سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہے

    برسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں

    ان آئینہ رویوں کے کیا میرؔ بھی عاشق ہیں

    جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY