جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں

سیماب اکبرآبادی

جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں

سیماب اکبرآبادی

MORE BYسیماب اکبرآبادی

    جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں

    غالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیں

    درد سر ان کے لئے کیوں ہے مرا عجز و نیاز

    میرے سجدوں سے وہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتے ہیں

    ان کی محفل سے تصور کا تعلق ہے ہمیں

    آنکھ کر لیتے ہیں جب بند وہیں ہوتے ہیں

    تیرے جلووں نے مجھے گھیر لیا ہے اے دوست

    اب تو تنہائی کے لمحے بھی حسیں ہوتے ہیں

    اعتکاف ان دنوں ہے فرض سنا ہے سیمابؔ

    رمضاں آ گئے مے خانہ نشیں ہوتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Intekhab-e-Sukhan(Jild-2) (Pg. 247)
    • Author : Hasrat Mohani
    • مطبع : uttar pradesh urdu academy (1983)
    • اشاعت : 1983

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY