جس کو جیسا بھی ہے درکار اسے ویسا مل جائے

فرحت احساس

جس کو جیسا بھی ہے درکار اسے ویسا مل جائے

فرحت احساس

MORE BY فرحت احساس

    جس کو جیسا بھی ہے درکار اسے ویسا مل جائے

    تو میسر ہو مجھے اور تجھے دنیا مل جائے

    سنگ سے سنگ کے ٹکرانے کا منظر دیکھوں

    کبھی ایسا ہو کہ تجھ کو کوئی تجھ سا مل جائے

    یہ دھڑکتا ہوا دل اس کے حوالے کر دوں

    ایک بھی شخص اگر شہر میں زندہ مل جائے

    سخت سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت روح مری

    جسم یار آ کہ بچاری کو سہارا مل جائے

    شہر کی بھیڑ مجھے تیرا بلاوا منظور

    شرط یہ ہے مرا کھویا ہوا صحرا مل جائے

    تو خدا ہے تو مجھے کفر میں مستحکم کر

    کہ مجھے راز صنم خانۂ دنیا مل جائے

    ہم تو بس دھوپ کی شدت میں کمی چاہتے ہیں

    کب کہا ہے کہ کہیں راہ میں سایا مل جائے

    اپنے آئینۂ توحید میں اللہ میاں

    دیکھتے رہیے کوئی آپ ہی جیسا مل جائے

    فصل شعر آئی ہے بازار سخن میں دیکھ آؤ

    فرحتؔ احساس بھی شاید کوئی تازہ مل جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY