جس نے اک عہد کے ذہنوں کو جلا دی ہوگی

کالی داس گپتا رضا

جس نے اک عہد کے ذہنوں کو جلا دی ہوگی

کالی داس گپتا رضا

MORE BYکالی داس گپتا رضا

    جس نے اک عہد کے ذہنوں کو جلا دی ہوگی

    میرے آوارہ خیالات کی بجلی ہوگی

    لے اڑی ہے ترے ہاتھوں کی حنا پچھلے پہر

    میرے الجھے ہوئے افکار کی آندھی ہوگی

    جتنی مل جائے گی کانٹوں کی چبھن لے لوں گا

    جو بھی حالت دل بے تاب کی ہوگی ہوگی

    ہم نہ مانیں گے خموشی ہے تمنا کا مزاج

    ہاں بھری بزم میں وہ بول نہ پائی ہوگی

    میری ناکامئ حالات کے دھارے کے سوا

    ایک ندی بھی تو بے آب نہ بہتی ہوگی

    ہے رضاؔ آج کا عالم تو اسیر ابہام

    یار زندہ ہیں تو کل اور ترقی ہوگی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جس نے اک عہد کے ذہنوں کو جلا دی ہوگی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY