جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی

آل احمد سرور

جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی

آل احمد سرور

MORE BY آل احمد سرور

    جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھی

    آئے ہیں اس کی سمت سے پتھر کبھی کبھی

    ہم جس کے ہو گئے وہ ہمارا نہ ہو سکا

    یوں بھی ہوا حساب برابر کبھی کبھی

    یاں تشنہ کامیاں تو مقدر ہیں زیست میں

    ملتی ہے حوصلے کے برابر کبھی کبھی

    آتی ہے دھار ان کے کرم سے شعور میں

    دشمن ملے ہیں دوست سے بہتر کبھی کبھی

    منزل کی جستجو میں جسے چھوڑ آئے تھے

    آتا ہے یاد کیوں وہی منظر کبھی کبھی

    مانا یہ زندگی ہے فریبوں کا سلسلہ

    دیکھو کسی فریب کے جوہر کبھی کبھی

    یوں تو نشاط کار کی سرشاریاں ملیں

    انجام کار کا بھی رہا ڈر کبھی کبھی

    دل کی جو بات تھی وہ رہی دل میں اے سرورؔ

    کھولے ہیں گرچہ شوق کے دفتر کبھی کبھی

    0
    COMMENT
    COMMENTS
    تبصرے دیکھیے

    Critique mode ON

    Tap on any word to submit a critique about that line. Word-meanings will not be available while you’re in this mode.

    OKAY

    SUBMIT CRITIQUE

    نام

    ای-میل

    تبصره

    Thanks, for your feedback

    Critique draft saved

    EDIT DISCARD

    CRITIQUE MODE ON

    TURN OFF

    Discard saved critique?

    CANCEL DISCARD

    CRITIQUE MODE ON - Click on a line of text to critique

    TURN OFF

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites