جو بھی انجام ہو آغاز کیے دیتے ہیں

فراغ روہوی

جو بھی انجام ہو آغاز کیے دیتے ہیں

فراغ روہوی

MORE BYفراغ روہوی

    جو بھی انجام ہو آغاز کیے دیتے ہیں

    موسموں کو نظر انداز کیے دیتے ہیں

    کچھ تو پہلے سے تھا رگ رگ میں شجاعت کا سرور

    کچھ ہمیں آپ بھی جاں باز کیے دیتے ہیں

    حد سے آگے جو پرندے نہیں اڑنے والے

    حادثے ان کو بھی شہباز کیے دیتے ہیں

    دشت و صحرا یہ سمندر یہ جزیرے یہ پہاڑ

    منکشف ہم پہ کئی راز کیے دیتے ہیں

    شب ظلمت نہ ہو غمگیں کہ جلا کر خود کو

    نور سے تجھ کو سرافراز کیے دیتے ہیں

    شہر جاں پر کئی برسوں سے مسلط ہے جمود

    چھیڑ کر دل کو چلو ساز کیے دیتے ہیں

    ہم کہ زندہ ہیں ابھی زلف غزل آ تجھ کو

    پھر عطا نکہت شیراز کیے دیتے ہیں

    کون آتا ہے عیادت کے لیے دیکھیں فراغؔ

    اپنے جی کو ذرا ناساز کیے دیتے ہیں

    مآخذ :
    • کتاب : Ghazal Ke Rang (Pg. 259)
    • Author : Akram Naqqash, Sohil Akhtar
    • مطبع : Aflaak Publications, Gulbarga (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY