جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نام

جون ایلیا

جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نام

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    جو گزر دشمن ہے اس کا رہ گزر رکھا ہے نام

    ذات سے اپنی نہ ہلنے کا سفر رکھا ہے نام

    پڑ گیا ہے اک بھنور اس کو سمجھ بیٹھے ہیں گھر

    لہر اٹھی ہے لہر کا دیوار و در رکھا ہے نام

    نام جس کا بھی نکل جائے اسی پر ہے مدار

    اس کا ہونا یا نہ ہونا کیا، مگر رکھا ہے نام

    ہم یہاں خود آئے ہیں لایا نہیں کوئی ہمیں

    اور خدا کا ہم نے اپنے نام پر رکھا ہے نام

    چاک چاکی دیکھ کر پیراہن پہنائی کی

    میں نے اپنے ہر نفس کا بخیہ گر رکھا ہے نام

    میرا سینہ کوئی چھلنی بھی اگر کر دے تو کیا

    میں نے تو اب اپنے سینے کا سپر رکھا ہے نام

    دن ہوئے پر تو کہیں ہونا کسی بھی شکل میں

    جاگ کر خوابوں نے تیرا رات بھر رکھا ہے نام

    مآخذ:

    • کتاب : goya, (Pg. 133)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY