جو مجھ کو دیکھ کے کل رات رو پڑا تھا بہت

اختر ہوشیارپوری

جو مجھ کو دیکھ کے کل رات رو پڑا تھا بہت

اختر ہوشیارپوری

MORE BY اختر ہوشیارپوری

    جو مجھ کو دیکھ کے کل رات رو پڑا تھا بہت

    وہ میرا کچھ بھی نہ تھا پھر بھی آشنا تھا بہت

    میں اب بھی رات گئے اس کی گونج سنتا ہوں

    وہ حرف کم تھا بہت کم مگر صدا تھا بہت

    زمیں کے سینے میں سورج کہاں سے اترے ہیں

    فلک پہ دور کوئی بیٹھا سوچتا تھا بہت

    مجھے جو دیکھا تو کاغذ کو پرزے پرزے کیا

    وہ اپنی شکل کے خاکے بنا رہا تھا بہت

    میں اپنے ہاتھ سے نکلا تو پھر کہیں نہ ملا

    زمانہ میرے تعاقب میں بھی گیا تھا بہت

    شکست و ریخت بدن کی اب اپنے بس میں نہیں

    اسے بتاؤں کہ وہ رمز آشنا تھا بہت

    بساط اس نے الٹ دی نہ جانے سوچ کے کیا

    ابھی تو لوگوں میں جینے کا حوصلا تھا بہت

    عجب شریک سفر تھا کہ جب پڑاؤ کیا

    وہ میرے پاس نہ ٹھہرا مگر رکا تھا بہت

    سحر کے چاک گریباں کو دیکھنے کے لیے

    وہ شخص صبح تلک شب کو جاگتا تھا بہت

    وہ کم سخن تھا مگر ایسا کم سخن بھی نہ تھا

    کہ سچ ہی بولتا تھا جب بھی بولتا تھا بہت

    ہوا کے لمس سے چہرے پہ پھول کھلتے تھے

    وہ چاندنی سا بدن موجۂ صبا تھا بہت

    پس دریچہ دو آنکھیں چمکتی رہتی تھیں

    کہ اس کو نیند میں چلنے کا عارضہ تھا بہت

    کہانیوں کی فضا بھی اسے تھی راس اخترؔ

    حقیقتوں سے بھی عہدہ بر‌‌ آ ہوا تھا بہت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY