جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں

حفیظ بنارسی

جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں

حفیظ بنارسی

MORE BYحفیظ بنارسی

    جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں

    قیامت وہی تو اٹھائے ہوئے ہیں

    تری انجمن میں جو آئے ہوئے ہیں

    غم دو جہاں کو بھلائے ہوئے ہیں

    پہاڑوں سے بھی جو اٹھائے نہ اٹھا

    وہ بار وفا ہم اٹھائے ہوئے ہیں

    کوئی شام کے وقت آئے گا لیکن

    سحر سے ہم آنکھیں بچھائے ہوئے ہیں

    جہاں بجلیاں خود اماں ڈھونڈتی ہیں

    وہاں ہم نشیمن بنائے ہوئے ہیں

    غزل آبرو ہے تو اردو زباں کی

    تری آبرو ہم بچائے ہوئے ہیں

    یہ اشعار یوں ہی نہیں درد آگیں

    حفیظؔ آپ بھی چوٹ کھائے ہوئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے