جدا رہتا ہوں میں تجھ سے تو دل بے تاب رہتا ہے

منور رانا

جدا رہتا ہوں میں تجھ سے تو دل بے تاب رہتا ہے

منور رانا

MORE BYمنور رانا

    جدا رہتا ہوں میں تجھ سے تو دل بے تاب رہتا ہے

    چمن سے دور رہ کے پھول کب شاداب رہتا ہے

    اندھیرے اور اجالے کی کہانی صرف اتنی ہے

    جہاں محبوب رہتا ہے وہیں مہتاب رہتا ہے

    مقدر میں لکھا کر لائے ہیں ہم بوریا لیکن

    تصور میں ہمیشہ ریشم و کمخواب رہتا ہے

    ہزاروں بستیاں آ جائیں گی طوفان کی زد میں

    مری آنکھوں میں اب آنسو نہیں سیلاب رہتا ہے

    بھلے لگتے ہیں اسکولوں کی یونیفارم میں بچے

    کنول کے پھول سے جیسے بھرا تالاب رہتا ہے

    یہ بازار ہوس ہے تم یہاں کیسے چلے آئے

    یہ سونے کی دکانیں ہیں یہاں تیزاب رہتا ہے

    ہماری ہر پریشانی انہی لوگوں کے دم سے ہے

    ہمارے ساتھ یہ جو حلقۂ احباب رہتا ہے

    بڑی مشکل سے آتے ہیں سمجھ میں لکھنؤ والے

    دلوں میں فاصلے لب پر مگر آداب رہتا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Sukhan Sarai (Pg. 108)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY