Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جدا رہتا ہوں میں تجھ سے تو دل بے تاب رہتا ہے

منور رانا

جدا رہتا ہوں میں تجھ سے تو دل بے تاب رہتا ہے

منور رانا

جدا رہتا ہوں میں تجھ سے تو دل بے تاب رہتا ہے

چمن سے دور رہ کے پھول کب شاداب رہتا ہے

اندھیرے اور اجالے کی کہانی صرف اتنی ہے

جہاں محبوب رہتا ہے وہیں مہتاب رہتا ہے

مقدر میں لکھا کر لائے ہیں ہم بوریا لیکن

تصور میں ہمیشہ ریشم و کمخواب رہتا ہے

ہزاروں بستیاں آ جائیں گی طوفان کی زد میں

مری آنکھوں میں اب آنسو نہیں سیلاب رہتا ہے

بھلے لگتے ہیں اسکولوں کی یونیفارم میں بچے

کنول کے پھول سے جیسے بھرا تالاب رہتا ہے

یہ بازار ہوس ہے تم یہاں کیسے چلے آئے

یہ سونے کی دکانیں ہیں یہاں تیزاب رہتا ہے

ہماری ہر پریشانی انہی لوگوں کے دم سے ہے

ہمارے ساتھ یہ جو حلقۂ احباب رہتا ہے

بڑی مشکل سے آتے ہیں سمجھ میں لکھنؤ والے

دلوں میں فاصلے لب پر مگر آداب رہتا ہے

مأخذ :
  • کتاب : Sukhan Sarai (Pg. 108)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے