جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا

جاوید شاہین

جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا

جاوید شاہین

MORE BY جاوید شاہین

    جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا

    مکیں تھے خود میں مگن اور گھر اکیلا تھا

    تھی آرزو کہ رہوں جبر سے محاذ آرا

    میں ڈر گیا کہ یہ لمبا سفر اکیلا تھا

    نگاہ غیر جسے معتبر بہت ٹھہری

    اسے میں کیسے دکھاتا نگر اکیلا تھا

    کہاں تلک میں شجاعت کی داد دیتا یہاں

    کہ اس کی ساری سپہ میں ادھر اکیلا تھا

    بہت مزے میں رہے سرنگوں خجل پودے

    ہوائے تیز کی زد میں شجر اکیلا تھا

    عبث شریک تھا بے وقت رزم میں شاہیںؔ

    دیار غیر میں وہ بے خبر اکیلا تھا

    مآخذ:

    • کتاب : Ishq e Tamam (Pg. 173)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY