رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی

پروین شاکر

رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی

    سائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھی

    خیمے نہ کوئی میرے مسافر کے جلائے

    زخمی تھا بہت پاؤں مسافت بھی بہت تھی

    سب دوست مرے منتظر پردۂ شب تھے

    دن میں تو سفر کرنے میں دقت بھی بہت تھی

    بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے

    جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی

    کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے

    اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی

    پھولوں کا بکھرنا تو مقدر ہی تھا لیکن

    کچھ اس میں ہواؤں کی سیاست بھی بہت تھی

    وہ بھی سر مقتل ہے کہ سچ جس کا تھا شاہد

    اور واقف احوال عدالت بھی بہت تھی

    اس ترک رفاقت پہ پریشاں تو ہوں لیکن

    اب تک کے ترے ساتھ پہ حیرت بھی بہت تھی

    خوش آئے تجھے شہر منافق کی امیری

    ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyaat-e-maahe tamaam(sadbarg) (Pg. 127)

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY