سوچا ہے کہ اب کار مسیحا نہ کریں گے

جون ایلیا

سوچا ہے کہ اب کار مسیحا نہ کریں گے

جون ایلیا

MORE BYجون ایلیا

    سوچا ہے کہ اب کار مسیحا نہ کریں گے

    وہ خون بھی تھوکے گا تو پروا نہ کریں گے

    اس بار وہ تلخی ہے کہ روٹھے بھی نہیں ہم

    اب کے وہ لڑائی ہے کہ جھگڑا نہ کریں گے

    یاں اس کے سلیقے کے ہیں آثار تو کیا ہم

    اس پر بھی یہ کمرا تہ و بالا نہ کریں گے

    اب نغمہ طرازان برافروختہ اے شہر

    واسوخت کہیں گے غزل انشا نہ کریں گے

    ایسا ہے کہ سینے میں سلگتی ہیں خراشیں

    اب سانس بھی ہم لیں گے تو اچھا نہ کریں گے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سوچا ہے کہ اب کار مسیحا نہ کریں گے نعمان شوق

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY