وہ تو حشر تھا مگر اس کی اب وہ شباہتیں بھی چلی گئیں

آر پی شوخ

وہ تو حشر تھا مگر اس کی اب وہ شباہتیں بھی چلی گئیں

آر پی شوخ

MORE BYآر پی شوخ

    وہ تو حشر تھا مگر اس کی اب وہ شباہتیں بھی چلی گئیں

    جو رہیں تو شہر میں کیا رہیں کہ قیامتیں بھی چلی گئیں

    ترے دم سے تھیں سبھی رونقیں وہ حبیب تھے کہ رقیب تھے

    وہ قرابتیں تو گئی ہی تھیں وہ رقابتیں بھی چلی گئیں

    ترا قرب گرچہ تھا جاں گسل وہی قرب تھا مری زندگی

    ترے بعد مرگ و حیات کی وہ رفاقتیں بھی چلی گئیں

    مری آرزو تھی کہ جاں بکف مری جستجو کہ نفس بہ پا

    اب اے زندگی مجھے چھوڑ جا کہ یہ حالتیں بھی چلی گئیں

    تو نے دی جو درد کی دولتیں وہ غزل غزل نہ سما سکیں

    مرے ہاتھ سے ترے حسن کی یہ وراثتیں بھی چلی گئیں

    اسے دیکھ دیکھ کے سوچنا اسے سوچ سوچ کے دیکھنا

    وہ عزیز کیا کہ عزیز تر کئی عادتیں بھی چلی گئیں

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY