جنوں کے جوش میں پھرتے ہیں مارے مارے اب

حفیظ جونپوری

جنوں کے جوش میں پھرتے ہیں مارے مارے اب

حفیظ جونپوری

MORE BYحفیظ جونپوری

    جنوں کے جوش میں پھرتے ہیں مارے مارے اب

    اجل لگا دے کہیں گور کے کنارے اب

    گیا جو ہاتھ سے وہ وقت پھر نہیں آتا

    کہاں امید کہ پھر دن پھریں ہمارے اب

    عجب نہیں ہے کہ پھر آج ہم سحر دیکھیں

    کہ آسمان پہ گنتی کے ہیں ستارے اب

    جب اس کے ہاتھ میں دل ہے مری بلا جانے

    ملے وہ پاؤں سے یا اپنے سر سے وارے اب

    عنایتوں کی وہ باتیں نہ وہ کرم کی نگاہ

    بدل گئے ہیں کچھ انداز اب تمہارے اب

    یہ ڈر ہے ہو نہ سر رہ گزار ہنگامہ

    سمجھ کے کیجئے درباں سے کچھ اشارے اب

    حفیظؔ سوچئے اس بات میں ہیں دو پہلو

    کہا ہے اس نے کہ اب ہو چکے تمہارے اب

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جنوں کے جوش میں پھرتے ہیں مارے مارے اب نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY