کبھی آئنے سا بھی سوچنا مجھے آ گیا

اقبال کوثر

کبھی آئنے سا بھی سوچنا مجھے آ گیا

اقبال کوثر

MORE BYاقبال کوثر

    کبھی آئنے سا بھی سوچنا مجھے آ گیا

    مرا دل کے بیچ ہی ٹوٹنا مجھے آ گیا

    تری پہلی دید کے ساتھ ہی وہ فسوں بھی تھا

    تجھے دیکھ کر تجھے دیکھنا مجھے آ گیا

    کوئی گہرے نیل سا سحر ہے تری آنکھ میں

    یہ وہ جھیل ہے جہاں ڈوبنا مجھے آ گیا

    مجھے کیا جو ہو کوئی لے میں شعر میں رنگ میں

    مرا دکھ یہ ہے اسے ڈھونڈنا مجھے آ گیا

    کہ ادائے یار پہ منحصر مری چال تھی

    کہیں جیتنا کہیں ہارنا مجھے آ گیا

    جہاں فرط مستی میں کج قدم تھے سمن باراں

    کوئی گر رہا تھا تو تھامنا مجھے آ گیا

    بڑے کام کی تھی جو گفتگو رہی رو بہ رو

    تو نہ جان، پر تجھے جاننا مجھے آ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY