کبھی دیکھو تو موجوں کا تڑپنا کیسا لگتا ہے

عبد الحمید

کبھی دیکھو تو موجوں کا تڑپنا کیسا لگتا ہے

عبد الحمید

MORE BYعبد الحمید

    کبھی دیکھو تو موجوں کا تڑپنا کیسا لگتا ہے

    یہ دریا اتنا پانی پی کے پیاسا کیسا لگتا ہے

    ہم اس سے تھوڑی دوری پر ہمیشہ رک سے جاتے ہیں

    نہ جانے اس سے ملنے کا ارادہ کیسا لگتا ہے

    میں دھیرے دھیرے ان کا دشمن جاں بنتا جاتا ہوں

    وہ آنکھیں کتنی قاتل ہیں وہ چہرہ کیسا لگتا ہے

    زوال جسم کو دیکھو تو کچھ احساس ہو اس کا

    بکھرتا ذرہ ذرہ کوئی صحرا کیسا لگتا ہے

    فلک پر اڑتے جاتے بادلوں کو دیکھتا ہوں میں

    ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تماشا کیسا لگتا ہے

    RECITATIONS

    عبد الحمید

    عبد الحمید

    عبد الحمید

    کبھی دیکھو تو موجوں کا تڑپنا کیسا لگتا ہے عبد الحمید

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY