کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو

غلام بھیک نیرنگ

کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو

غلام بھیک نیرنگ

MORE BYغلام بھیک نیرنگ

    کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو

    دن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہو

    اک جھلک تم جو لب بام دکھا جاتے ہو

    دل پہ اک کوندتی بجلی سی گرا جاتے ہو

    میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب

    یہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو

    تازہ کر جاتے ہو تم دل میں پرانی یادیں

    خواب شیریں سے تمنا کو جگا جاتے ہو

    اتنی ہم کو بھی دکھاتے ہو مسیحا نفسی

    حسرت مردہ کو آ آ کے جلا جاتے ہو

    نگہ لطف میں جادو ہے تمہاری جاناں

    سارے شکوے گلے اک پل میں بھلا جاتے ہو

    شعلۂ طور سے تو وادی ایمن ہی جلا

    تم جہاں آتے ہو اک آگ لگا جاتے ہو

    ہے تو نیرنگؔ وہی عشق کا رونا دھونا

    انہی باتوں میں نیا رنگ دکھا جاتے ہو

    مآخذ
    • کتاب : Intekhabe Kalam (Pg. 53)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY