کہاں کھو گئی روح کی روشنی

خلیل الرحمن اعظمی

کہاں کھو گئی روح کی روشنی

خلیل الرحمن اعظمی

MORE BYخلیل الرحمن اعظمی

    کہاں کھو گئی روح کی روشنی

    بتا میری راتوں کی آوارگی

    میں جب لمحے لمحے کا رس پی چکا

    تو کچھ اور جاگی مری تشنگی

    اگر گھر سے نکلوں تو پھر تیز دھوپ

    مگر گھر میں ڈستی ہوئی تیرگی

    غموں پہ تبسم کی ڈالی نقاب

    تو ہونے لگی اور بے پردگی

    مگر جاگنا اپنی قسمت میں تھا

    بلاتی رہی نیند کی جل پری

    جو تعمیر کی کنج تنہائی میں

    وہ دیوار اپنے ہی سر پر گری

    ہوئی بارش سنگ اس شہر میں

    ہمیں بھی ملا حق ہمسائیگی

    گزاری ہے کتنوں نے اس طرح عمر

    بالاقساط کرتے رہے خودکشی

    کوئی وقت بتلا کہ تجھ سے ملوں

    مری دوڑتی بھاگتی زندگی

    جنہیں ساتھ چلنا ہو چلتے رہیں

    گھڑی وقت کی کس کی خاطر رکی

    میں جیتا تو پائی کسی سے نہ داد

    میں ہارا تو گھر پر بڑی بھیڑ تھی

    ہوا ہم پہ اب جن کا سایہ حرام

    تھی ان بادلوں سے کبھی دوستی

    مجھے یہ اندھیرے نگل جائیں گے

    کہاں ہے تو اے میرے سورج مکھی

    نکالے گئے اس کے معنی ہزار

    عجب چیز تھی اک مری خامشی

    مآخذ:

    • کتاب : aasmaan ai aasmaan (Pg. 156)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY