کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے

سلیم کوثر

کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئے

    وہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے

    دیے کی لو سے چھلکتا ہے اس کے حسن کا عکس

    سنگار کرتے ہوئے آئینہ سجاتے ہوئے

    اب اس جگہ سے کئی راستے نکلتے ہیں

    میں گم ہوا تھا جہاں راستہ بتاتے ہوئے

    پکارتے ہیں انہیں ساحلوں کے سناٹے

    جو لوگ ڈوب گئے کشتیاں بناتے ہوئے

    پھر اس نے مجھ سے کسی بات کو چھپایا نہیں

    وہ کھل گیا تھا کسی بات کو چھپاتے ہوئے

    مجھی میں تھا وہ ستارہ صفت کہ جس کے لیے

    میں تھک گیا ہوں زمانے کی خاک اڑاتے ہوئے

    مزاروں اور منڈیروں کے رت جگوں میں سلیمؔ

    بدن پگھلنے لگے ہیں دیے جلاتے ہوئے

    مأخذ :
    • کتاب : duniya aarzoo se kam hai (Pg. 41)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY