کہیں کہیں سے پر اسرار ہو لیا جائے

غلام مرتضی راہی

کہیں کہیں سے پر اسرار ہو لیا جائے

غلام مرتضی راہی

MORE BYغلام مرتضی راہی

    کہیں کہیں سے پر اسرار ہو لیا جائے

    کہ اپنے حق میں بھی ہموار ہو لیا جائے

    وہ جس نے زخم لگائے رکھے گا مرہم بھی

    اسی کا دل سے طرف دار ہو لیا جائے

    یہی ہے نیند کا منشا کہ خواب غفلت سے

    صحیح وقت پہ بیدار ہو لیا جائے

    گرہ کشائی موج نفس بہانہ ہے

    کہ اس بہانے سے اس پار ہو لیا جائے

    کسی کی راہ میں آنے کی یہ بھی صورت ہے

    کہ سایہ کے لیے دیوار ہو لیا جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY