Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کہیں سورج کہیں ذرہ چمکتا ہے

فراغ روہوی

کہیں سورج کہیں ذرہ چمکتا ہے

فراغ روہوی

کہیں سورج کہیں ذرہ چمکتا ہے

اشارے سے ترے کیا کیا چمکتا ہے

فلک سے جب نئی کرنیں اترتی ہیں

گہر سا شبنمی قطرہ چمکتا ہے

اسے دنیا کبھی دریا نہیں کہتی

چمکنے کو تو ہر صحرا چمکتا ہے

ستارہ تو ستارہ ہے مرے بھائی

کبھی تیرا کبھی میرا چمکتا ہے

مری میلی ہتھیلی پر تو بچپن سے

غریبی کا کھرا سونا چمکتا ہے

مشقت کی بدولت ہی جبینوں پر

پسینے کا ہر اک قطرہ چمکتا ہے

قرینے سے تراشا ہی نہ جائے تو

کسی پہلو کہاں ہیرا چمکتا ہے

یہ کیا طرفہ تماشہ ہے سیاست کا

کہیں خنجر کہیں نیزہ چمکتا ہے

تصور میں فراغؔ آٹھوں پہر اب تو

کوئی چہرہ غزل جیسا چمکتا ہے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے