کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو

باقی صدیقی

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو

باقی صدیقی

MORE BYباقی صدیقی

    کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو

    اس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہو

    ہر یاد ہر خیال ہے لفظوں کا سلسلہ

    یہ محفل نوا ہے یہاں بولتے رہو

    موج صدائے دل پہ رواں ہے حصار زیست

    جس وقت تک ہے منہ میں زباں بولتے رہو

    اپنا لہو ہی رنگ ہے اپنی تپش ہی بو

    ہو فصل گل کہ دور خزاں بولتے رہو

    قدموں پہ بار ہوتے ہیں سنسان راستے

    لمبا سفر ہے ہم سفراں بولتے رہو

    ہے زندگی بھی ٹوٹا ہوا آئنہ تو کیا

    تم بھی بطرز شیشہ گراں بولتے رہو

    باقیؔ جو چپ رہوگے تو اٹھیں گی انگلیاں

    ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 14.03.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY