کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے

اسعد بدایونی

کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے

اسعد بدایونی

MORE BYاسعد بدایونی

    کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے

    منظر یہاں تمام مگر کربلا کا ہے

    آتے ہیں برگ و بار درختوں کے جسم پر

    تم بھی اٹھاؤ ہاتھ کہ موسم دعا کا ہے

    غیروں کو کیا پڑی ہے کہ رسوا کریں مجھے

    ان سازشوں میں ہاتھ کسی آشنا کا ہے

    اب ہم وصال یار سے بے زار ہیں بہت

    دل کا جھکاؤ ہجر کی جانب بلا کا ہے

    یہ کیا کہا کہ اہل جنوں اب نہیں رہے

    اسعدؔ جو تیرے شہر میں بندہ خدا کا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کہتے ہیں لوگ شہر تو یہ بھی خدا کا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY