کہتے ہیں سن کے تذکرے مجھ غم رسیدہ کے

نسیم دہلوی

کہتے ہیں سن کے تذکرے مجھ غم رسیدہ کے

نسیم دہلوی

MORE BYنسیم دہلوی

    کہتے ہیں سن کے تذکرے مجھ غم رسیدہ کے

    افسانے کون سنتا ہے حال شنیدہ کے

    کیا اپنی مشت خاک کی ہم جستجو کریں

    ملتے نہیں نشان غبار پریدہ کے

    میں خاک بھی ہوا نہ گئی پر کشیدگی

    غصے وہی رہے مرے دامن کشیدہ کے

    جو تم میں بات ہے وہ کسی اور میں کہاں

    جلوے کچھ اور ہی ہیں گل نو دمیدہ کے

    سیلاب چشم تر سے زمانہ خراب ہے

    شکوے کہاں کہاں ہیں مرے آب دیدہ کے

    کچھ انتہا نہیں ہے کہاں تک سنائیے

    قصے دراز ہیں دل نا آرمیدہ کے

    قطرے ملے جو تیرے پسینے کے گل بدن

    خواہاں رہے نہ لوگ گلاب چکیدہ کے

    آہوں کی دھوم ہے کہیں نالوں کے گلگلے

    ساماں نئے ہیں روز ترے غم کشیدہ کے

    آرام گاہ اشک ہے ویران اے جنوں

    دامن ہیں تار تار قبائے دریدہ کے

    او مست ناز کیف یہ تیرے سخن میں ہے

    دھوکے کلام پر ہیں شراب چکیدہ کے

    لو آشیان تن کی طرف میل تک نہیں

    دیکھو مزاج طائر رنگ پریدہ کے

    دیواں میں وصف ہے عرق جسم یار کا

    مضموں کہاں کہاں ہیں گلاب چکیدہ کے

    مژگاں سے بچ نسیمؔ کہ ابرو کے پاس ہیں

    یہ تیر بے خطا ہیں کمان کشیدہ کے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY