کل میں انہی رستوں سے گزرا تو بہت رویا

خورشید رضوی

کل میں انہی رستوں سے گزرا تو بہت رویا

خورشید رضوی

MORE BYخورشید رضوی

    کل میں انہی رستوں سے گزرا تو بہت رویا

    سوچی ہوئی باتوں کو سوچا تو بہت رویا

    دل میرا ہر اک شے کو آئینہ سمجھتا ہے

    ڈھلتے ہوئے سورج کو دیکھا تو بہت رویا

    جو شخص نہ رویا تھا تپتی ہوئی راہوں میں

    دیوار کے سائے میں بیٹھا تو بہت رویا

    آساں تو نہیں اپنی ہستی سے گزر جانا

    اترا جو سمندر میں دریا تو بہت رویا

    جس موج سے ابھرا تھا اس موج پہ کیا گزری

    صحرا میں وہ بادل کا ٹکڑا تو بہت رویا

    ہم تیری طبیعت کو خورشیدؔ نہیں سمجھے

    پتھر نظر آتا تھا رویا تو بہت رویا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY