کر برا تو بھلا نہیں ہوتا

ابن مفتی

کر برا تو بھلا نہیں ہوتا

ابن مفتی

MORE BYابن مفتی

    کر برا تو بھلا نہیں ہوتا

    کر بھلا تو برا نہیں ہوتا

    اک وہی لاپتہ نہیں ہوتا

    جس کو اپنا پتا نہیں ہوتا

    سب نشانے اگر صحیح ہوتے

    تیر کوئی خطا نہیں ہوتا

    کون عاشق ہے کون ہے معشوق

    پیار میں فیصلہ نہیں ہوتا

    کوئی ایسی جگہ ہی دکھلاؤ

    جس جگہ پر خدا نہیں ہوتا

    کوچۂ یار جو نہ جاتا ہو

    راستہ راستہ نہیں ہوتا

    کامیابی کے راستوں کی طرف

    بیچ کا راستا نہیں ہوتا

    ساری دنیا تو ہو گئی میری

    اک فقط تو مرا نہیں ہوتا

    دل نظر پر اگر نظر رکھتے

    پیار کا حادثہ نہیں ہوتا

    جب تلک تو نہ ہو خیالوں میں

    کوئی سجدہ روا نہیں ہوتا

    اس کی مخمور آنکھ کے آگے

    مے کدہ مے کدہ نہیں ہوتا

    کوششیں خود ہی کرنا پڑتی ہیں

    بھیڑ میں راستہ نہیں ہوتا

    ایک عرصہ ہوا کہ نیند سے بھی

    آمنا سامنا نہیں ہوتا

    پیار ہو جائے کب کہاں کس سے

    یہ کسی کو پتا نہیں ہوتا

    ہم نے دیکھا ہے روبرو ان کے

    آئینہ آئینہ نہیں ہوتا

    صدقہ خیرات کیجئے صاحب

    مسکرانا برا نہیں ہوتا

    کیا کرامت بھی اب نہیں ہوگی

    مانا اب معجزہ نہیں ہوتا

    ہاتھ مشکل میں چھوڑ جاتے ہو

    یہ تو پھر تھامنا نہیں ہوتا

    پہلے نظریں اٹوٹ تھیں اور اب

    ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

    مفتیؔ ہم ہی بھنور نصیب رہے

    ورنہ ساحل پہ کیا نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY