کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا

ضیا جالندھری

کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا

ضیا جالندھری

MORE BYضیا جالندھری

    کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا

    میں پیاس بانٹتا ہوں ضرورت نہیں تو جا

    میں شہر شہر خوابوں کی گٹھری لیے پھرا

    بے دام تھا یہ مال پہ گاہک کوئی نہ تھا

    پتھر پگھل کے ریت کے مانند نرم ہے

    درد اتنی دیر ساتھ رہا راس آ گیا

    سینوں میں اضطراب ہے گریہ ہوا میں ہے

    کیا وقت ہے کہ شور مچا ہے دعا دعا

    ہمت ہے تو بلند کر آواز کا علم

    چپ بیٹھنے سے حل نہیں ہونے کا مسئلہ

    واں شب گزیدہ سینوں کو سورج عطا ہوئے

    تم بھی وہاں گئے تھے ضیاؔ تم کو کیا ملا

    مآخذ:

    • کتاب : sar-e-shaam se pas-e-harf tak (Pg. 402)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY