کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا

غلام محمد قاصر

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا

غلام محمد قاصر

MORE BYغلام محمد قاصر

    کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا

    اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    تصویر نہیں بدلی شیشہ بھی نہیں بدلا

    نظریں بھی سلامت ہیں چہرہ بھی نہیں بدلا

    ہے شوق سفر ایسا اک عمر سے یاروں نے

    منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا

    بے کار گیا بن میں سونا مرا صدیوں کا

    اس شہر میں تو اب تک سکہ بھی نہیں بدلا

    بے سمت ہواؤں نے ہر لہر سے سازش کی

    خوابوں کے جزیرے کا نقشہ بھی نہیں بدلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY