کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

عبد الحمید عدم

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

عبد الحمید عدم

MORE BY عبد الحمید عدم

    کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

    ہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں نا خدا کے ساتھ

    دل کی طلب پڑی ہے تو آیا ہے یاد اب

    وہ تو چلا گیا تھا کسی دل ربا کے ساتھ

    جب سے چلی ہے آدم و یزداں کی داستاں

    ہر با وفا کا ربط ہے اک بے وفا کے ساتھ

    مہمان میزباں ہی کو بہکا کے لے اڑا

    خوشبوئے گل بھی گھوم رہی ہے صبا کے ساتھ

    پیر مغاں سے ہم کو کوئی بیر تو نہیں

    تھوڑا سا اختلاف ہے مرد خدا کے ساتھ

    شیخ اور بہشت کتنے تعجب کی بات ہے

    یارب یہ ظلم خلد کی آب و ہوا کے ساتھ

    پڑھتا نماز میں بھی ہوں پر اتفاق سے

    اٹھتا ہوں نصف رات کو دل کی صدا کے ساتھ

    محشر کا خیر کچھ بھی نتیجہ ہو اے عدمؔ

    کچھ گفتگو تو کھل کے کریں گے خدا کے ساتھ

    مآخذ:

    • Book: Adam ki behtareen ghazlein (Pg. 56)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY