کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا

کیف بھوپالی

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا

کیف بھوپالی

MORE BY کیف بھوپالی

    کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا

    میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا

    دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک

    کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا

    اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل

    تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا

    دل کی قسمت ہی میں لکھا تھا اندھیرا شاید

    ورنہ مسجد کا دیا کس نے بجھایا ہوگا

    گل سے لپٹی ہوئی تتلی کو گرا کر دیکھو

    آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہوگا

    کھیلنے کے لیے بچے نکل آئے ہوں گے

    چاند اب اس کی گلی میں اتر آیا ہوگا

    کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں

    اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا نعمان شوق

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY