خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا

ساقی فاروقی

خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا

ساقی فاروقی

MORE BYساقی فاروقی

    خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا

    ٹوٹتا جاتا ہے آواز سے رشتہ اپنا

    یہ جدائی ہے کہ نسیاں کا جہنم کوئی

    راکھ ہو جائے نہ یادوں کا ذخیرہ اپنا

    ان ہواؤں میں یہ سسکی کی صدا کیسی ہے

    بین کرتا ہے کوئی درد پرانا اپنا

    آگ کی طرح رہے آگ سے منسوب رہے

    جب اسے چھوڑ دیا خاک تھا شعلہ اپنا

    ہم اسے بھول گئے تو بھی نہ پوچھا اس نے

    ہم سے کافر سے بھی جزیہ نہیں مانگا اپنا

    یہ نیا دکھ کہ محبت سے ہوئے ہیں سیراب

    پیاس کے بوجھ سے ڈوبا نہ سفینہ اپنا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY